26 اگست 2026 - 18:27
نوری مالکی: عراق میں شیعہ، شیعہ لڑائی کا تصور محض وہم ہے

عراق کے سابق وزیر اعظم اور ائتلافِ دولتِ قانون کے سربراہ نوری مالکی نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں اسلحے پر ریاستی اجارہ داری کے معاملے کو حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیان تصادم میں تبدیل کرنا انتہائی خطرناک ہوگا، تاہم اسے ’’شیعہ، شیعہ لڑائی‘‘ قرار دینا درست نہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ائتلافِ دولتِ قانون کے سربراہ نوری مالکی نے آج بدھ کے روز سیاسی تجزیہ کاروں اور امورِ سیاسی کے ماہرین سے ملاقات میں کہا کہ عراق اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کے لیے اعلیٰ درجے کی سیاسی بصیرت اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔

نوری مالکی نے سیاسی میدان میں کشیدگی بڑھانے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شیعہ رابطہ کاری اتحاد بدستور حکومت کی حمایت جاری رکھے گا اور اس پالیسی کا مقصد عراق کے استحکام اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی اجارہ داری کے معاملے کو کشیدگی یا محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور سیاسی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیان تصادم میں تبدیل کرنا انتہائی خطرناک ہوگا، جس سے عراق کے استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

نوری مالکی نے کہا کہ کسی بھی قسم کی داخلی محاذ آرائی پورے عراق کے لیے نقصان دہ ہوگی اور اس کے اثرات کسی ایک فریق یا مخصوص طبقے تک محدود نہیں رہیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ ممکنہ تصادم کو ’’شیعہ، شیعہ لڑائی‘‘ سمجھتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں، کیونکہ اس کے نتائج حکومت، معاشرے اور عراق کے تمام طبقات کو بھگتنا پڑیں گے۔

ائتلافِ دولتِ قانون کے سربراہ نے کہا کہ حکومت اور شیعہ رابطہ کاری اتحاد ملک کو خانہ جنگی یا داخلی مسلح تصادم کی طرف نہیں جانے دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق کو درپیش خطرات سے بچانے اور اسے سیاسی تصفیوں یا علاقائی و بین الاقوامی مفادات کی کشمکش کا میدان بننے سے روکنے کے لیے واضح قومی اور علاقائی حکمتِ عملی ضروری ہے، تاکہ عراق کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام برقرار رہے۔

نوری مالکی نے عراقی حکومت کی کابینہ کی تکمیل اور خالی وزارتوں کا معاملہ جلد از جلد حل کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ وزیر اعظم علی زیدی بھی اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha